Maskingenerert språk – ikke kvalitetssikret (gratis)
Innholdet i dette språket er laget med KI og ikke kontrollert av en morsmålsbruker eller lærer. Det kan inneholde feil i grammatikk, stavemåte, bøyning og ordvalg. Innholdet tilbys derfor gratis — bruk det med forbehold, og sjekk alltid mot ordbok eller en som kan språket før du stoler på det. Slik lages og kvalitetssikres innholdet
Eksamen: PSP5938 | Semester: Høst 2024 | Varighet: 5 timer
Vekting: Lesing ca. 25 % | Skriving ca. 75 %
| Påstand | Person | Begrunnelse |
|---|---|---|
| Liker å lese bøker som gir meg innsikt i ideenes verden | Sameer | Sameer leser filosofi (Platon, Aristoteles, Bertrand Russell, Allama Iqbal) og sier «نظریات اور آراء کو سمجھا» (forstod teorier og meninger). |
| Har lært om veien til suksess | Talha | Talha leser selvbiografier om suksessfulle mennesker og sier «کامیابی کیسے حاصل کر سکتا ہے» (hvordan man kan oppnå suksess). |
| Liker godt Nasim Hijazi | Sania | Sania nevner Nasim Hijazi direkte: «نسیم حجازی کی کتابیں». |
| Foretrekker å lese om fortiden | Sania | Sania leser historiske romaner og sier «ماضی کی دنیا میں لے جاتی ہے» (tar meg til fortidens verden). |
| Liker å lese selvbiografier | Talha | Talha sier «خودنوشت سوانح عمریاں پڑھنے کا شوق ہے» (liker å lese selvbiografier) – Edhi, Bill Gates, Nelson Mandela. |
| Har fått nye perspektiver på hvordan språk kan brukes | Shahwez | Shahwez sier «الفاظ کی دنیا میں ایک نیا منظرنامہ» (et nytt landskap i ordenes verden) og «نئے زاویوں سے» (fra nye vinkler). |
| Harry Potter er blant favorittene | Rabiya | Rabiya nevner «ہیری پورٹر سیریز» (Harry Potter-serien) direkte. |
| Har grublet over livets grunnleggende spørsmål | Sameer | Sameer sier «زندگی کے بنیادی سوالات» (livets grunnleggende spørsmål). |
| Liker lyrikk og språklige virkemidler | Shahwez | Shahwez leser Urdu-poesi (Ghalib, Faiz, Ahmed Faraz) og verdsetter «الفاظ کا چناؤ، تراکیب کا استعمال» (ordvalg, bruk av uttrykk). |
| Interesserer seg for fantasy | Rabiya | Rabiya sier «سائنس فکشن اور تصوراتی ادب کی شیدائی» (elsker sci-fi og fantasylitteratur) – Arabian Nights, Harry Potter, Tolkien. |
Ord som ikke brukes (5): حکمران (hersker), پیچیدہ (komplisert), اشیاء (ting/gjenstander), آمدنی (inntekt), سربراہ (leder/sjef).
میں بے حد خوش ہوں کیونکہ مجھے اپنے پسندیدہ گلوکار عاطف اسلم کے کنسرٹ کی دو مفت ٹکٹیں ملی ہیں! یہ ٹکٹیں مجھے ایک ریڈیو مقابلے میں حصہ لینے پر ملیں جس میں عاطف اسلم کے گانوں کے بارے میں سوالات تھے۔ میں نے تمام جوابات درست دیے اور قسمت سے جیت گیا۔
عاطف اسلم میرے پسندیدہ فنکار ہیں کیونکہ ان کی آواز بہت سریلی ہے اور ان کے گانے دل کو چھو لیتے ہیں۔ یہ کنسرٹ لندن کے مشہور ویمبلے ایرینا میں ہونے والا ہے۔ میں اپنے بہترین دوست احمد کو ساتھ لے جاؤں گا کیونکہ وہ بھی عاطف اسلم کا بہت بڑا مداح ہے۔
کنسرٹ کے بعد عاطف اسلم سے ملنا ایک خواب کے پورا ہونے جیسا ہوگا۔ میں ان سے پوچھوں گا کہ انہوں نے موسیقی کی دنیا میں قدم کیسے رکھا اور ان کا سب سے پسندیدہ گانا کون سا ہے۔
آج کل نوجوانوں میں کتابیں پڑھنے کا رجحان بہت کم ہو گیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز کا بے تحاشا استعمال ہے۔ نوجوان اپنا زیادہ تر وقت ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر گزارتے ہیں جس سے ان کی پڑھنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
میرے خیال میں اس مسئلے کی ایک اور وجہ تعلیمی نظام بھی ہے جو کتاب پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے۔ اسکولوں میں لائبریری کا وقت ختم ہو رہا ہے اور بچوں کو صرف امتحانی تیاری پر توجہ دلائی جاتی ہے۔
اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچپن سے ہی بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کریں۔ اسکولوں میں کتاب پڑھنے کے مقابلے منعقد کیے جائیں اور نوجوانوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق کتابیں فراہم کی جائیں۔ صرف سوشل میڈیا پر وقت گزارنا ذہنی صلاحیتوں کو محدود کرتا ہے جبکہ کتابیں ذہن کو وسعت دیتی ہیں۔
یکم جنوری:
آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور میں نے دو نئے عزائم کیے ہیں: زیادہ پڑھنا اور زیادہ لکھنا۔ میں نے آج ایک نئی کتاب شروع کی جس کا نام «چھوٹی سی دنیا» ہے۔ میں نے تیس صفحات پڑھے اور اپنی ڈائری میں بھی لکھنا شروع کیا۔ بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے!
۲ جنوری:
آج صبح جلدی اٹھی اور ناشتے سے پہلے بیس صفحات پڑھے۔ کتاب بہت دلچسپ ہے۔ شام کو میں نے اپنے خیالات اور احساسات کے بارے میں ایک مختصر مضمون لکھا۔ لکھنا مشکل تھا لیکن میں نے کوشش جاری رکھی۔
۳ جنوری:
آج تھوڑی مصروفیت رہی۔ دوستوں نے باہر جانے کی دعوت دی تو میں چلی گئی۔ واپس آ کر بہت تھکاوٹ تھی اس لیے صرف دس صفحات پڑھ سکی اور لکھنا نہیں ہو سکا۔ تھوڑا مایوس ہوں لیکن کل پوری کوشش کروں گی۔
۴ جنوری:
آج میں نے کل کی کمی پوری کی۔ چالیس صفحات پڑھے اور ایک خوبصورت نظم بھی لکھی جو فطرت کے بارے میں ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ ہر روز کامل ہونا ضروری نہیں، مگر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ پڑھنا اور لکھنا واقعی دماغ کو تازہ کرتا ہے۔
آج کے دور میں اشتہارات ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ہر طرف، ٹیلی ویژن سے لے کر سوشل میڈیا تک، ہم اشتہارات سے گھرے ہوئے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ میں بھی اس سے متاثر ہوتا ہوں۔ جب میرے دوست یا مشہور شخصیات کسی نئی چیز کا استعمال کرتے ہیں تو مجھے بھی وہ چیز خریدنے کی خواہش ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب بات جوتوں، کپڑوں یا نئے موبائل فونز کی ہو تو میں بعض اوقات نئے رجحانات کی پیروی کرتا ہوں۔
ابھی حال ہی میں مجھے ایک نئے برانڈ کے وائرلیس ہیڈفونز کا اشتہار نظر آیا جو ایک مشہور یوٹیوبر استعمال کر رہا تھا۔ اشتہار اتنا دلکش تھا کہ مجھے فوری طور پر محسوس ہوا کہ مجھے یہ خریدنے ہیں، حالانکہ میرے پرانے ہیڈفونز ابھی ٹھیک کام کر رہے تھے۔ میں نے اپنی جمع پونجی سے وہ ہیڈفونز خرید لیے لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ یہ محض اشتہار کا اثر تھا۔
نوجوانوں میں خریداری کے دباؤ کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے جہاں ہر روز نئی مصنوعات کی تشہیر ہوتی ہے۔ مشہور شخصیات اور انفلوئنسرز جب کوئی چیز استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں تو نوجوان اسے فیشن کا حصہ سمجھ کر خریدنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوستوں کے درمیان مقابلے کا ماحول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب ایک دوست نئی چیز لے آئے تو دوسرے کو بھی وہی چیز چاہیے ہوتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو سمجھائیں کہ ہر نئی چیز خریدنا ضروری نہیں اور اصل خوشی مادی اشیاء میں نہیں بلکہ اچھے تعلقات اور علم میں ہے۔
Om oppgaveteksten: Oppgaveteksten i dette løsningsforslaget er gjengitt fra Utdanningsdirektoratets (UDIR) eksamen i Urdu Nivå III (høsten 2024). Vi gjengir oppgaveteksten bevisst, slik at du kan følge løsningen uten å veksle mellom dokumenter. Eksamensoppgaver fra offentlige myndigheter er uten opphavsrettsvern etter åndsverkloven § 14 og kan gjengis fritt. Selve løsningsforslaget, forklaringene og figurene er utarbeidet av Eksamenssett.no. Opphavsrettsbeskyttede bilder og illustrasjoner fra originaleksamen er fjernet.