Eksamen: PSP5938 | Semester: Vår 2025 | Varighet: 5 timer
Vekting: Lesing ca. 25 % | Skriving ca. 75 %
| Påstand | Svar | Forklaring |
|---|---|---|
| 1. En av de største bekymringene er miljøødeleggelsen som følger i turismens kjølvann. | Riktig | Teksten sier «ماحول کی تباہی کی ایک بڑی وجہ سیاحتی سرگرمیاں بھی ہیں» (turistaktiviteter er en stor årsak til miljøødeleggelse). |
| 2. Turismen fungerer stort sett godt i Norge, så behovet for å endre den er ikke like stort som i flere europeiske byer. | Galt | Teksten beskriver store problemer også i Norge (Geirangerfjorden med bare 225 innbyggere og tusenvis av turister) og etterlyser tiltak. |
| 3. Utarming av turistmål fører til at stedene mister sin sjarm, noe som igjen kan skremme bort enda flere reisende. | Riktig | Teksten sier «لوگوں میں ان مقامات کو دیکھنے میں دلچسپی کم ہوسکتی ہے جو سیاحوں کو اس مقام کی سیر سے دور کرسکتے ہیں» (folk kan miste interesse, noe som kan holde turister borte). |
| 4. Både kronekurs og klimakonsekvenser har ført til økt turisme her til lands. | Riktig | Teksten nevner «نارویجئین کرونر کی قدر میں کمی» (svak norsk krone) og «گرمیوں میں شدت اور جنگلوں میں لگنے والی آگ» (hete og skogbranner) som årsaker til turisme i Norge. |
| 5. Noen byer i Asia har innført strenge reguleringer av turismen. | Galt | Teksten nevner europeiske byer: «اٹلی اور اسپین کے شہروں وینس اور بارسلونا» (Venezia og Barcelona i Italia og Spania), ikke asiatiske byer. |
| 6. En stor andel av de lokale bedriftene er avhengig av turister for å kunne klare seg. | Galt | Teksten omtaler turisme som positivt for turistnæringen og dens arbeidere, men sier ikke at en «stor andel» av lokale bedrifter er avhengige av turister. |
مظفر صاحب کی بات سے میں بالکل متفق ہوں۔ ذمہ دارانہ سفر آج کے دور میں انتہائی ضروری ہے۔ جب ہم کسی ملک کا دورہ کرتے ہیں تو ہمیں وہاں کی ثقافت اور زبان کے بارے میں جاننا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ہمارا تجربہ بہتر ہوتا ہے بلکہ مقامی لوگوں سے بھی اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
البتہ، مجھے عالیشہ کی بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے چھٹیاں ایک آرام کا موقع ہوتی ہیں۔ لیکن صرف اپنے آرام کے بارے میں سوچنا اور ماحول کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہے۔
ناروے آنے والے سیاحوں سے میری توقع ہے کہ وہ ہماری قدرتی خوبصورتی کا خیال رکھیں، کچرا نہ پھیلائیں، مقامی روایات کا احترام کریں اور ماحول دوست طریقے سے سفر کریں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
| Utdrag | Riktig overskrift | Forklaring |
|---|---|---|
| 1. Om inflasjon i Norge, stigende matpriser, studenter som må jobbe mer | اشیائے خورد و نوش میں اضافہ (Økning i matvarepriser) |
Teksten handler om «مہنگائی کے باعث کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں» (matpriser som stiger på grunn av inflasjon). |
| 2. Om en leopard som fikk 4 unger i en dyrepark i Kristiansand | باغ حیوان میں خوشخبری (Gode nyheter fra dyrehagen) |
Teksten handler om «چڑیا گھر میں ایک تیندوے نے چار بچوں کو جنم دیا» (en leopard fødte fire unger i dyrehagen). |
| 3. Om en kommune i Midt-Norge som legger ned 6 skoler for å spare 80 millioner kroner | تعلیمی اداروں کی بندش (Nedleggelse av utdanningsinstitusjoner) |
Teksten handler om «6 مختلف کالجوں کو بند کرنے کا فیصلہ» (beslutning om å legge ned 6 skoler). |
| 4. Om Arshad Nadeem som vant OL-gull i spydkast 2024 med ny olympisk rekord | گمنامی سے شہرت کا سفر (Reisen fra anonymitet til berømmelse) |
Teksten handler om en ukjent pakistansk utøver som ble verdensberømt etter OL-gullet. |
| 5. Om regjeringens beslutning om å heve aldersgrensen for sosiale medier fra 13 til 15 år | سوشل میڈیا کے استعمال پر سختی (Strengere regler for bruk av sosiale medier) |
Teksten handler om «سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے استعمال پر عمر کی حد میں اضافہ» (øke aldersgrensen for sosiale medier). |
| 6. Om Oslo-politiet som er bekymret for unge under 15 involvert i vold og kriminalitet | دارالحکومت میں جرائم میں اضافہ (Økning i kriminalitet i hovedstaden) |
Teksten handler om «اوسلو پولیس نے کم عمر نوجوانوں میں لاقانونیت میں شمولیت پر تشویش» (Oslo-politiets bekymring over unge kriminelle). |
Ekstra overskrifter (distraktorer): «طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلاب سے ہوئی تباہی» (ødeleggelse fra flom) og «موٹاپا کم کرنے کے لئے ذیابیطس کی دوا کے استعمال میں اضافہ» (økt bruk av diabetesmedisin mot overvekt).
محترم استاد صاحب،
السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کو ایک اہم بات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ ہفتے کے امتحان میں میرے ہم جماعت احمد نے نقل کی۔ میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے فون میں نوٹس چھپا رکھے تھے اور جب بھی آپ کی نظر دوسری طرف ہوتی تھی، وہ فون سے جوابات دیکھ لیتا تھا۔
مجھے معلوم ہے کہ یہ بتانا آسان نہیں ہے لیکن میرے خیال میں یہ دوسرے محنتی طلباء کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم سب نے محنت کی لیکن نقل کرنے والے کو زیادہ نمبر ملے جو کہ غلط ہے۔
مستقبل میں اس طرح کی نقل کو روکنے کے لیے میری تجویز ہے کہ امتحان کے دوران فون جمع کرا لیے جائیں اور نگرانی سخت کی جائے۔
شکریہ۔
آپ کا شاگرد
زندگی میں کئی ایسے مواقع آتے ہیں جب ہمیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آیا ہم کسی غلط بات کے خلاف آواز اٹھائیں یا خاموش رہیں۔ میرے خیال میں یہ فیصلہ حالات پر منحصر ہوتا ہے۔
پہلی مثال: اگر آپ دیکھیں کہ کسی کو اسکول میں غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو آپ کو ضرور بتانا چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس شخص کی جسمانی اور ذہنی صحت خطرے میں ہے اور خاموش رہنا ظلم میں شامل ہونے کے مترادف ہے۔ ایسی صورت میں استاد یا بڑوں کو بتانا بہت ضروری ہے۔
دوسری مثال: اگر آپ کے دوست نے آپ کو راز میں بتایا ہے کہ اسے کسی سے محبت ہے اور یہ کسی کے لیے نقصاندہ نہیں ہے، تو اس بات کو دوسروں کو بتانا درست نہیں ہے۔ یہ اس کی ذاتی زندگی کا معاملہ ہے اور اس کا اعتماد توڑنا غلط ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی کی حفاظت خطرے میں ہو تو بولنا ضروری ہے، لیکن جب معاملہ ذاتی ہو اور کسی کو نقصان نہ پہنچ رہا ہو تو خاموشی بہتر ہے۔
آج کے دور میں خبروں سے آگاہ رہنا انتہائی ضروری ہے۔ میرا خبروں سے گہرا تعلق ہے اور میں روزانہ صبح اور شام خبریں دیکھتا ہوں۔ یہ میری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ اس سے مجھے دنیا میں ہونے والے واقعات کا علم ہوتا ہے اور میں بہتر فیصلے کر سکتا ہوں۔
میرے خیال میں ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں، تعلیم، صحت اور سائنسی ترقی جیسے موضوعات کے بارے میں زیادہ جاننا چاہیے کیونکہ یہ ہماری زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ دوسری طرف، مشہور شخصیات کی ذاتی زندگیوں، سنسنی خیز واقعات اور بے بنیاد افواہوں کے بارے میں ہمیں ضرورت سے زیادہ معلومات دی جاتی ہیں جو وقت کا ضیاع ہے۔
میں خبریں بنیادی طور پر ناروے کے قابل اعتماد اخبارات جیسے این آر کے اور وی جی سے حاصل کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ بی بی سی اردو اور جیو نیوز بھی دیکھتا ہوں تاکہ بین الاقوامی اور پاکستانی خبروں سے آگاہ رہ سکوں۔ میں ان ذرائع کو اس لیے منتخب کرتا ہوں کیونکہ یہ معتبر اور غیرجانبدار خبریں فراہم کرتے ہیں۔
خبروں کے ذرائع کا انتخاب انتہائی اہم ہے کیونکہ غلط معلومات معاشرے میں تفرقہ اور نفرت پھیلا سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سی جھوٹی خبریں گردش کرتی ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ معتبر اور مستند ذرائع سے خبریں حاصل کرنی چاہییں اور کسی بھی خبر کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔ صحیح خبروں کا انتخاب ایک ذمہ دار شہری کی پہچان ہے اور یہ جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔